اسی وادی میں تم اب جادہ پیما ہو جہاں میں تھا

اُسی وادی میں تم اب جادہ پیما ہو جہاں میں تھا
زمانے کی بھری محفل میں تنہا ہو جہاں میں تھا

مری کوتاہ بینی اب تمہیں فطرت نے بخشی ہے
وہاں اب تم بھی مایوسِ تمنا ہو جہاں میں تھا

مجھے طعنے دیا کرتے تھے لیکن خیر سے تم بھی
اسی منظر میں مصروفِ تماشا ہو جہاں میں تھا

یہ ضبطِ غم کی بخشش ہے ، مقدر کے کرشمے ہیں
تمہاری بھی وہی لے دے کے دنیا ہو جہاں میں تھا

احسان دانش

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے