ایسا بھی کہیں دیکھا ہے

ایسا بھی کہیں دیکھا ہے منظر اُسے کہنا
صحرا ہے میری آنکھ کے اُندر اُسے کہنا

تجھ کو بھی کوئی شک ہے تو پھر آ میں دکھاوں
شاہوں میں بھی بیٹھے ہیں گداگر اُسے کہنا

کیسے میں کہوں چہرہ وہ ایسا ہے کہ جیسے
پونم کے حسیں چاند کا منظر اُسے کہنا

اب اُس کو مرے لمس کی خوشبو نہیں ملنی
اب عود لگائے کہ وہ عنبر اُسے کہنا

ہوتا ہے کوٸی خوف نہ ڈرا اس کو کسی کا
اُڑتا ہے ہواؤں میں قلندر اُسے کہنا

تیرے ہی طرفدار تری سمت بڑھیں گے
ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے خنجر اُسے کہنا

ہر بات کو سہہ لیتا ہوں چپ چاپ میں ہنس کر
جیسے کہ مرا دل ہو سمندر اُسے کہنا

ہر جا پہ تجھے ڈھونڈتا پھرتا ہوں میں فیصل
مسجد ہو کلیسا ہو کہ مندر اُسے کہنا

فیصل شہزاد

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے