اگرچہ اس نے لکھا ہوا ہے

اگرچہ اس نے لکھا ہوا ہے جہان فانی میں مار دینا
مکان والے سے التجا ہے کہ لا مکانی میں مار دینا

مرے عزیزو میں جا رہا ہوں مری وصیت کو یاد رکھنا
جو مجھ سا کوئی بھی ایک دیکھو اسے جوانی میں مار دینا

مجھے ہے معلوم اے مصنف کہ میرا کردار ثانوی ہے
جہاں اضافی لگے تمہیں یہ مجھے کہانی میں مار دینا

میں جانتا ہوں کہ ضعف پیری تو چھین لیتا ہے بولنا بھی
زباں میں لکنت سے پیشتر ہی مجھے روانی میں مار دینا

انہیں بڑھاپے میں چھوڑنا مت نحیف خوابوں کو توڑنا مت
ضعیف ماں باپ کو نہ تم ان کی زندگانی میں مار دینا

مجھے تمہارے ستم کی نسبت کرم تمہارا عزیز تر ہے
سو دشت غم سے بچا کے صحرائے مہربانی میں مار دینا

اگر یہ ڈر ہے کہ آستیں پر مرے لہو کے نشان ہوں گے
تمہیں سہولت میں دے رہا ہوں کہ مجھ کو پانی میں مار دینا

سبھی محبت کی بات کرتے ہیں میں محبت نبھا رہا ہوں
سو مارنا ہو تو اپنے دانشؔ کو جرم ثانی میں مار دینا

دانش عزیز

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے