اگرچہ درد کے دل میں

اگرچہ درد کے دل میں مرے ہالے نہیں ہیں
کہا کس نے کہ پاؤں میں مرے چھالے نہیں ہیں

ہمارے حق میں گر وہ بولتا تو مان لیتے
زباں پر اس کی ہاں تالے نہیں تالے نہیں ہیں

منافق دوستوں کا ساتھ تھا اور یہ گماں تھا
کہ ہم نے آستیں میں سانپ یہ پالے نہیں ہیں

ہماری سب دعائیں رنگ لائیں گی یقیں ہے
ہمارے دل میں کیونکہ شر کے وہ جالے نہیں ہیں

محبت لکھ رہے ہیں بانٹ کر سچی محبت
ہمارے لفظ کیونکہ تیر اور بھالے نہیں ہیں

ہمی ہیں شاز وہ اہلِ سخن اہلِ محبت
جو اہلِ ظرف ہیں اور جن کے دل کالے نہیں ہیں

شاز ملک

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے