ہر گھڑی اک نیا تقاضا ہے

ہر گھڑی اک نیا تقاضا ہے
زندگی کیا ترا تماشا ہے

تم زمانے کی بات مت کرنا
کس کے حق میں کہو زمانہ ہے

دل کی ہم بات کیا کریں صاحب
درد کا روح پر بھی چھالا ہے

ہوش والوں کو یہ خبر کر دو
تیرگی میں چھپا اُجالا ہے

کون جانے کہاں پہ کس کس نے
اپنا خود ہی اٹھایا لاشہ ہے

وقت کے بے ثبات دریا نے
غم کی لہروں کو ہی اچھالا ہے

بول کچھ تو اے میرے چارہ گر
کیوں محبت کا مول گھاٹا ہے

رنج و غم درد اور خوشی حیرت
زندگی کا یہ ہی فسانہ ہے

شاز سب کو سمجھ نہیں آتی
درد کی اک الگ سی بھاشا ہے

شاز ملک

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی