اگر پوچھا کہ مجھ سے

اگر پوچھا کہ مجھ سے کام کیا ہے ، کیا کہوں گا میں
کہا اس کام کا انجام کیا ہے، کیا کہوں گا میں

مجھے پہچاننے سے اس نے گر انکار کر ڈالا
اگر پوچھا کہ تیرا نام کیا ہے، کیا کہوں گا میں

پیامی بن کے جاؤں میں بچھڑنے کا تو کیا بولوں
اگر پوچھا ترا پیغام کیا ہے ، کیا کہوں گا میں

خوشی کا دن کسے کہتے ہیں یہ تو میں بتا دوں گا
اگر پوچھا غموں کی شام کیا ہے، کیا کہوں گا میں

میں اس کے منہ پہ اس کو بےوفا کہنے کو تو کہہ دوں
اگر پوچھا ترا انجام کیا ہے ، کیا کہوں گا میں

عدیم اس کو برا کہنا مجھے اچھا نہیں لگتا
اگر پوچھا ترا الزام کیا ہے، کیا کہوں گا میں

عدیم ہاشمی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے