اگر مل سکے تو وفا چاہیے

اگر مل سکے تو وفا چاہیے
ہمیں کچھ نہ اس کے سِوا چاہیے
بہت بے سکوں ہے وہ میرے بِنا
اُسے زندگی کی دُعا چاہیے
کہیں بھی میں جاؤں پلٹ آؤں گی
مجھے بس تری اک صدا چاہیے
ہو تکمیل جس سے مری ذات کی
بہاروں کی ایسی نوا چاہیے
مجھے تیرے قدموں میں اے ہم نوا
اگر مل سکے تو جگہ چاہیے
کہاں تک بھلا میں نبھاؤں وفا
کبھی تو مجھے بھی صلہ چاہیے
سمندر سمندر مری زندگی
کنارا مجھے اے خدا چاہیے
کبھی شام ہے تو کبھی رات ہے
مجھے روشنی اے خدا چاہیے
پلٹنے کا مجھ میں نہیں حوصلہ
ترے در پہ ہی اب قضا چاہیے

ناہید ورک

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے