اے چمن والو! متاعِ رنگ و بُو جلنے لگی

اے چمن والو! متاعِ رنگ و بُو جلنے لگی

ہر روش پر نکہتوں کی آبرو جلنے لگی

پھر لغاتِ زندگی کو دو کوئی حرفِ جُنوں

اے خرد مندو! ادائے گفتگو جلنے لگی

قصرِ آدابِ محبت میں چراغاں ہو گیا

ایک شمعِ نو ورائے ما و تو جلنے لگی

ہر طرف لُٹنے لگی ہیں جگمگاتی عصمتیں

عظمت انسانیت پھر چارسُو جلنے لگی

دے کوئی چھینٹا شراب ارغواں کا ساقیا

پھر گھٹا اُٹھی تمنّائے سبُو جلنے لگی

اِک ستارہ ٹوٹ کر معبودِ ظلمت بن گیا

اِک تجلّی آئینے کے رُو برُو جلنے لگی

دیکھنا ساغرخرامِ یار کی نیرنگیاں

آج پھُولوں میں بھی پروانوں کی خُو جلنے لگی

ساغر صدیقی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا