ادائیں تم بنا لینا اشارے میں بناؤں گا

ادائیں تم بنا لینا اشارے میں بناؤں گا
تمہارے پھول جذبوں کو شرارے میں بناؤں گا

تمہارا ساتھ شامل ہے تو پھر تم دیکھتے جاؤ
زمین و آسماں کے اب کنارے میں بناؤں گا

اگر تم فیصلہ کر لو محبت اوڑھ لینے کا
تو پھر اس شال کے اوپر ستارے میں بناؤں گا

تمہارا کام اتنا ہے فقط کاجل لگا لینا
تمہاری آنکھ کی خاطر نظارے میں بناؤں گا

تمہیں بس مسکرانا ہے تمہیں بس گنگنانا ہے
محبت کے لیے نغمے تو سارے میں بناؤں گا

اگر اس کی یہ خواہش ہو کہ جوئے شیر لازم ہے
فقط اک بار خالدؔ وہ پکارے میں بناؤں گا

خالد ندیم شانی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا