اداسیوں کے عذابوں سے پیار رکھتی ہوں

اداسیوں کے عذابوں سے پیار رکھتی ہوں
نفس نفس میں شبِ انتظار رکھتی ہوں
یہ دیکھ کتنی منور ہے میری تنہائی
چراغ، بامِ مژہ پر ہزار رکھتی ہوں
نہ چاند ہے نہ ستارہ نہ کوئی جگنو ہے
نصیب میں کئی شب ہائے تار رکھتی ہوں
کہاں سے آئے گا نیلے سمندروں کا نشہ
میں اپنی آنکھ میں غم کا خمار رکھتی ہوں
مثالِ برق چمکتی ہوں بے قراری میں
میں روشنی کی لپک بر قرار رکھتی ہوں
جلی ہوئی سہی دشتِ فراق میں لیکن
کسی کی یاد سے دل پُر بہار رکھتی ہوں

فرزانہ نیناں

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی