اب عشق میں ہوں جان بَلَب

اب عشق میں ہوں جان بَلَب اور زیادہ
ہے راحتِ دل درد میں اَب اور زیادہ

میں ہوں ترے مے خانے کا وہ رندِ بَلا نوش
ہر دَور میں ہے جس کی طلَب اور زیادہ

ملتی ہے مری روح کو تسکین عجب سی
دیتا ہے مجھے درد وہ جَب اور زیادہ

صد چاک رہا کر تو یونہی سامنے اس کے
بنتے ہیں سنورنے کے سبَب اور زیادہ

جب سے ہے کھلا آیہِ رحمن کا مفہوم
ملتا ہے مجھے لطفِ غضَب اور زیادہ

یہ زخمِ جگر سوز ہوا جتنا پرانا
بڑھتا ہی گیا دردِ طلَب اور زیادہ

عرفان سے خالی ہے ترے قلب کا ہر تار
تُو سوز میں لا رنگِ طرَب اور زیادہ

اعجازِ سَفَر ثبت کئے خونِ جگر سے
رنگین ہوئی وصل کی شب اور زیادہ

جامؔی ترے محبوب کے قدموں کی بدولت
مانوس ہوا شہرِ عرَب اور زیادہ

شاہ محمود جامؔی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے