آستانے بنائے جاتے ہیں

آستانے بنائے جاتے ہیں
بس ٹھکانے بناتے جاتے ہیں

کوئی منظر نیا نہیں بنتا
سب پرانے بناتے جاتے ہیں

کیا ستم ہے فروغِ دربدری
آشیانے بنائے جاتے ہیں

بے دھڑک آپ اٹھائیے تلوار
ہم نشانے بنائے جاتے ہیں

کیا کہا ہجر کی مسافت سے
دن, زمانے بنائے جاتے ہیں

دل اٹھاتا ہے بوجھ وحشت کا
یونہی شانے بنائے جاتے ہیں

اپنے کردار کے لیے ارشاد
تانے بانے بنائے جاتے ہیں

ارشاد نیازی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا