آنکھ کو آئنہ سمجھتے ہو

آنکھ کو آئنہ سمجھتے ہو
عکس کو جانے کیا سمجھتے ہو

دوست اب کیوں نہیں سمجھتے تم
تم تو کہتے تھے نا سمجھتے ہو

اپنا غم تم کو کیسے سمجھاؤں
سب سے ہارا ہوا سمجھتے ہو

میری دنیا اجڑ گئی اس میں
تم اسے حادثہ سمجھتے ہو

آخری راستہ تو باقی ہے
آخری راستہ سمجھتے ہو

ہمانشی بابرا

Related posts

شہباز خواجہ شاعری

ماتم

ہجر