لوگ تو لوگ ہیں لوگوں کی طرح دیکھتے ہیں

لوگ تو لوگ ہیں لوگوں کی طرح دیکھتے ہیں
اور ہم ہیں تجھے بچوں کی طرح دیکھتے ہیں

ہم کو دنیا نے لکڑہارا سمجھ رکھا ہے
ہم تو پیڑوں کو پرندوں کی طرح دیکھتے ہیں

میں جو دیکھوں تو جھپکتی نہیں آنکھیں میری
اور حضرت مجھے اندھوں کی طرح دیکھتے ہیں

تم تو پھر غیر ہو تم سے تو شکایت کیسی
میرے اپنے مجھے غیروں کی طرح دیکھتے ہیں

تیرا دیدار قضا ہوتا نہیں ہے ہم سے
ہم تجھے فرض نمازوں کی طرح دیکھتے ہیں

ہمانشی بابرا

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے