عاداتاً ہم تو وفا کرتے ہیں

عاداتاً ہم تو وفا کرتے ہیں
لا محالہ وہ جفا کرتے ہیں

دُشمنِ جاں وہی بن جاتا ہے
ہم تو جِس کا بھی بھُلا کرتے ہیں

نہ ہو دل میں خُدا کا خوف تو پھِر
دل میں شیطان بسا کرتے ہیں

ایسے ملتے ہیں اب سگے بھائی
جیسے دو غیر مِلا کرتے ہیں

وہ جو نظروں سے دُور ہیں میری
دل میں ہر آن رہا کرتے ہیں

ایسے اُٹّھے وہ بزمِ سے جیسے
آخری بار اُٹھا کرتے ہیں

دل میں“ شہناز“ نفرتیں ہوں تو
فاصلے اور بڑھا کرتے ہیں

شہناز رضوی

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے