دیکھتا ہے ہو کے حیراں آدمی

دیکھتا ہے ہو کے حیراں آدمی
ہو گیا ہے کتنا ارزاں آدمی

اِک زمانہ تھا ، ہُوا کرتا تھا جب
آدمی کے دُکھ کا درماں آدمی

نفسا نفسی پھیلی ہے بس چار سُو
آج ہے کتنا پریشاں آدمی

قیدِ تنہائی ہے اور ہے دیکھئے
روزنِ دیوارِ زنداں آدمی

اِس پریشاں دَور میں بتلایئے
کیسے ڈھونڈے کوئی خنداں آدمی

توڑ دی مہنگائی نے ایسی کَمَر
ہر طرف ہے پا بجولاں آدمی

سوچ کر “شہناز” یہ بتلایئے
کِس طرح بنتا ہے اِنساں آدمی

 شہناز رضوی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے