فصلِ گُل آئےگی اِک اِک زخمِ دل لہرائے گا

فصلِ گُل آئےگی اِک اِک زخمِ دل لہرائے گا
اشک کی تُغیانیوں میں یہ جہاں بہہ جائے گا

جِس قدر بھی تُم چھُپاؤ مُجھ سے اپنا رازِ دل
فاش ہو جائے گا آنکھوں سے عیاں ہو جائےگا

لاکھ مُمکن ہے علاجِ درد لیکن کیا کہیں
درد آخر درد ہے پھِر سے جواں ہو جائے گا

زندگی کا فلسفہ کیا ہے ، نہ سمجھوتے کبھی
مَوت کی کیا ہے حقیقت وقت ہی بتلائے گا

جب مِرے گی دل کی کالک تب بڑھے گا التفات
گیسُؤوں کے بادلوں میں چاند جگمگائےگا

اِس قدر اُلفت ہے ہم سے دلرُبا سیّاد کو
ہم مَریں گے تو ہمیں کِس طرح وہ دفنائے گا

جانکنی کی کیفیت تو ہے کٹھن بے حد کٹھن
زیست کیا ہے جی کے دیکھو تب پتہ چل جائے گا

تین دن تک تیرے بھی گھر میں لگیں گی رونقیں
دیکھنا “ شہناز “ بس اِک آئے گا اِک جائے گا

شہناز رضوی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا