زلفوں کی گھٹائیں پی جاؤ

زلفوں کی گھٹائیں پی جاؤ

وہ جو بھی پلائیں پی جاؤ

اے تشنہ دہانِ جور خزاں

پھولوں کی ادائیں پی جاؤ

تاریکی دوراں کے مارو

صبحوں کی ضیائیں پی جاؤ

نغمات کا رس بھی نشہ ہے

بربط کی صدائیں پی جاؤ

مخمور شرابوں کے بدلے

رنگین خطائیں پی جاؤ

اشکوں کا مچلنا ٹھیک نہیں

بے چین دعائیں پی جاؤ

ساغر صدیقی

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا