زلف ِ جاناں تری خوشبو کے سہارے تک ہے

زلف ِ جاناں تری خوشبو کے سہارے تک ہے
یہ سفر صبح کے مجبور ستارے تک ہے

آؤ حالات کو پھر ہجر کا مجرم سمجھیں
ورنہ اس غم کا مداوا بھی ہمارے تک ہے

وقت آساں ہی سہی ہم پہ بظاہر لیکن
دشتِ فرقت میں گزر اپنا گزارے تک ہے

پیڑ ہوتے تو زمینوں کی حفاظت کرتے
اب تو موسم بھی ہواؤں کے اشارے تک ہے

کون رہتا ہے رواں اپنی حدوں سے باہر
شدتِ موج سمندر کے کنارے تک ہے

کچھ نئے زخم ہوئے اب مری پہچان سعید
سلسلہ درد کا سڈنی سے ہزارے تک ہے

سعید خان

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا