مری فصیلِ انا میں شگاف کر کے رہے

مری فصیلِ انا میں شگاف کر کے رہے
کہ دوست مجھ کو بھی میرے خلاف کر کے رہے

یہ معجزہ ہے کہ اپنے دلوں کی وسعت ہے
محبتوں میں بھی ہم اختلاف کر کے رہے

رکے تو حسن کا کعبہ تھا اپنے پہلو میں
چلے تو اس کی گلی کا طواف کر کے رہے

جنوں میں رنج و ملامت کو رائیگاں نہ سمجھ
یہ داغ وہ ہے جو دامن کو صاف کر کے رہے

ترے فراق نے آخر بتوں کو سونپ دیا
سوادِ ہجر سے ہم انحراف کر کے رہے

ہم اپنے دل کی قیامت کا راز کیا رکھیں
وہ جس نظر میں رہے انکشاف کر کے رہے

میں سر اٹھا کے کچھ اِس شان سے جیا ہوں سعید
مرے عدو بھی مرا اعتراف کر کے رہے

سعید خان 

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی