زعمِ طاقت پر یونہی اک روز وارے جائیں گے
مر نہیں جائیں گے ہم سرکار مارے جائیں گے
قیس کو تھا دشت میں دیوانگی کا آسرا
آپ چاہیں بھی اگر کس کے سہارے جائیں گے
دوستی ،چاہت ،محبت، عشق ، پاگل پن، جنوں
جانتے ہیں اور کتنے روپ دھارے جائیں گے
گر یزیدِ وقت ہو تو پھر تمہارے ہاتھ سے
پہلے دریا جائے گا اور پھر کنارے جائیں گے
بے حسی اوڑھے ہوئے ان بےحسوں کے شہر میں
کچھ گزر جائیں گے اور کچھ دن گزارے جائیں گے
ماوٰی سلطان