تو نے دیکھا ہے

تو نے دیکھا ہے
ہرے زخم سے بہتا ہوا نیلا سا لہو
یا کبھی آنکھ میں ٹھہری ہوئی
شعلوں سی سلگتی ہوئی سرخی کوئی
چھو کے دہکے ہو کبھی صبح کے دم پھولوں کو
یعنی شبنم نے جلائے ہوں ترے ہاتھ کبھی
قطرہِ ابر میں سورج کا اترنا دیکھا
آگ میں پانیوں کی صفت کبھی پائی ہو
کبھی دیکھے ہیں سفر گہرے ضبط والوں کے
عین اس وقت جہاں تھک کے مسافر ٹوٹے
پاؤں کے چھالوں سے الحمد کی صدا آئے
کوئی پردیس کو جاتے ہوئے بھی ہنستے ہوئے
خود سے کہتا ہو کہ بس دو ہی قدم باقی ہیں
اس مختصر سی مسافت میں ساتھ کیا معنی
تیری حیران طبیعت یہی دیتی ہے پتا
تو نے اپنوں کو ابھی تک نہیں پہچانا ہے

ماوٰی سلطان

Related posts

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا