زندگی زخم سے موسوم

زندگی زخم سے موسوم تو ہولینے دو
اس کو میرے لیے مقسوم تو ہولینے دو

بات کو بات سے الجھائے چلے جاتے ہو
تم مکمل مرا مفہوم تو ہولینے دو

ڈھونڈ لے گا یہ زمانہ تمہیں ان میں آخر
میرے شعروں کی ذرا دھم تو ہولینے دو

ہاں چلے جانا بڑے شوق سے لیکن ٹھہرو
نقش بر آب ہوں معدوم تو ہولینے دو

پھر کبھی بیٹھ کے طے کرنا شرائط مجھ سے
پیار کو لازم و ملزوم تو ہولینے دو

سیدہ صائمہ کامران

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا