موجِ ادراک میں ڈھلتا ہوا پانی ہوں میں
ایک کردار نہیں ،پوری کہانی ہوں میں
ڈھونڈنا مجھ کو کبھی دل کی نگاہیں لے کر
خشک پیڑوں پہ لکھی کوئی نشانی ہوں میں
تیری تکمیل کی بنیاد ہے میرے دم سے
تُو اگر شعر ہے تو مصرعہ ء ثانی ہوں میں
زعم کیسا ہے تجھے کیسی رعونت تجھ میں
زندگی دیکھ ۔۔فقط جادہ ء فانی ہوں میں
تُو انا زاد کہاں اس کا ہنر سمجھے گا
جانے کس کرب سے ہر فیصلہ مانی ہوں میں
صائمہ وہ ہے سلگتے ہوئے سورج کی کرن
لان میں سہمی ہوئی رات کی رانی ہوں میں
سیدہ صائمہ کامران