ذہن کی پٹاری سے ہاؤ و ہُو نکلتا ہے

ذہن کی پٹاری سے ہاؤ و ہُو نکلتا ہے
دل کی اس تجوری سے ایک تُو نکلتا ہے

پردہء جہاں کو میں جس جگہ سے سَرکاؤں
منظروں کے سینے سے تُو ہی تو نکلتا ہے

خود کو دیکھ کر جو میں قہقہہ لگاتا ہوں
آئینے کی آنکھوں سے بھی لہو نکلتا ہے

اس ہنر نے تو مری پور پور چھیل دی
یہ جو روز ایک کارِ دل رفو نکلتا ہے

پھر دکھائی دیتا ہے ایک خول کی صورت
جب بدن سے کاروانِ جستجو نکلتا ہے

جو دکھائی دیتا ہے وہ کبھی نہیں ہوتا
آدمی تو درمیانِ گفتگو نکلتا ہے

جو تری نظر میں تھا جانِ آبرو کبھی
اب تمہارے در سے بے آبرو نکلتا ہے

دلشاد احمد

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی