گُلاب اب تازہ کاری مانگتے ہیں

گُلاب اب تازہ کاری مانگتے ہیں
تری مسکاں اُدھاری مانگتے ہیں

غضب کی ہے تمہاری خوش لباسی
یہ پھول اُترن تمہاری مانگتے ہیں

ہم اہل حرف بس اہل سخن سے
سخن کی پاسداری مانگتے ہیں

ترے بالوں میں کرنیں ٹانکنے کو
ستارے اپنی باری مانگتے ہیں

تری تحویل میں ہے میرے شاہا
ہنسی کی واگزاری مانگتے ہیں

دلشاد احمد

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان