زوالِ عمرِ رفتہ میں کھڑا ہوں

زوالِ عمرِ رفتہ میں کھڑا ہوں
اگرچہ دیکھنے میں چل رہا ہوں

بھنور کچھ اس قدر راس آ گئے ہیں
کناروں سے کنارہ کر رہا ہوں

اندھیر رات بھر سہنا پڑے گا
طلوعِ شام میں رکھا گیا ہوں

مری جانب ہے میری ماں کا چہرہ
میں پلکوں سے ستارے چن رہا ہوں

تجارت میرا پیشہ تو نہیں ہے
تجھے آنکھوں سے پورا تولتا ہوں

محافظ پیٹ بھرنے میں لگے ہیں
سہولت سے میں چوری ہو رہا ہوں

سبھی تصویر تیری کھینچتے ہیں
تجھے تصویر سے میں کھینچتا ہوں

دلشاد احمد

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا