غلط کہتے ہو عورت ناچتی ہے

غلط کہتے ہو عورت ناچتی ہے
ارے چھوڑو ضرورت ناچتی ہے

مرے دل کی تُو کیسے جان پائے
ترے لہجے میں دولت ناچتی ہے

لگا کر حسرتوں کا ایک میلہ
مرے کمرے میں وحشت ناچتی ہے

مرے شاہا یہ کیسی بے خودی ہے
بدن دِکھتا ہے، الفت ناچتی ہے

تعلق کے سبھی در بند کر کے
دلوں میں اک کدورت ناچتی ہے

کہیں رقصاں ہے ناداروں پہ غربت
کہیں بے جا سہولت ناچتی ہے

یہ آنسو ہی نہیں دلشاد ان میں
ترے من کی ہزیمت ناچتی ہے

دلشاد احمد

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان