زمانے میں رفاقت کی جو یہ رِیت و روایت ہے

زمانے میں رفاقت کی جو یہ رِیت و روایت ہے
محبت ہے نہ الفت ہے، فقط یہ اک تجارت ہے

تعلّق اب ضرورت کے ترازو میں ہی تُلتے ہیں
وفا کے نام پر ہر سو مفادوں کی حکومت ہے

جبیں پر زہد کے تیور، دلوں میں حرص کا ڈیرہ
لباسِ پارسائی میں، یہاں پلتی خباثت ہے

جو نیکی کر کے دریا میں بہانے کا زمانہ تھا
وہ اب بدلا، کہ نیکی کو بھی شہرت کی ضرورت ہے

تکلم کے سبھی رستوں پہ پہرے سخت ہیں سالکؔ
کہ اِس نگری میں سچ کہنا سراسر اک بغاوت ہے

محمد عمیر سالک

Related posts

میں مقتول قاتل ہوں

مخالفین کا ظرف اور آج کی سیاست کا زوال

میرا سفر : شوگر سے صحت کی طرف