اتر آئی ہے رحمت کی

اتر آئی ہے رحمت کی حسین برسات روزوں میں
خدا سے ہو رہی ہے اب مری بھی بات روزوں میں

فرشتے جھک کے سنتے ہیں مری خاموش آہوں کو
مجھے تو بھا گئی ہے بس یہی سوغات روزوں میں

ازل سے جس کی حسرت تھی، وہی ساعت میسر ہے
بدل ڈالی ہے قدرت نے مری اوقات روزوں میں

فلک کے پار پہنچی ہے صدا میری دعاؤں کی
بڑی ہی معتبر ٹھہری مری حاجات روزوں میں

تیرا در مل گیا ہے، جب سے مجھ سالک کو اے مولا
نکھرنے لگ گئے ہیں اب مرے حالات روزوں میں

محمد عمیر سالک

Related posts

زمیں کی بات کرتے ہیں

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

مرد کے حصے کا ہجر