زخمِ دل پھر سے مندمل ہوں گے

زخمِ دل پھر سے مندمل ہوں گے
نا ہوٸے گر تو جاں گسل ہوں گے

فترتِ غم کبھی نہ ہو شاید
جو ملے ہیں وہ مستقل ہوں گے

المیہ ہے کہ اپنے سارے دُکھ
اگلی نسلوں کو منتقل ہوں گے

عارضی مسکراہٹیں اپنی
قہقہے غم پہ مشتمل ہوں گے

مل رہے ہیں ہمیں جو غم عاجز
زیست کے ساتھ متصل ہوں گے

ڈاکٹر محمدالیاس عاجز

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے