یوں جو پلکوں کو ملا کر نہیں دیکھا جاتا

یوں جو پلکوں کو ملا کر نہیں دیکھا جاتا

ہر طرف ایک ہی منظر نہیں دیکھا جاتا

کام اتنے ہیں بیابانوں کے ویرانوں کے

شام ہو جاتی ہے اور گھر نہیں دیکھا جاتا

جھانک لیتے ہیں گریباں میں یہی ممکن ہے

ایسی پستی ہے کہ اوپر نہیں دیکھا جاتا

جس کو خوابوں کو ضرورت ہو اٹھا کر لے جائے

ہم سے اب اور یہ دفتر نہیں دیکھا جاتا

ذوالفقار عادل

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان