یوں ہے کہ

یوں ہے کہ

کبھی قہقہہ ٹوٹا سانس کی ہلتی ٹہنی سے
کبھی آنکھیں چُورا چُورا ہو کر بہہ نکلیں
کبھی لفظ ہنسی کی گردباد میں اُڑتے رہے
کبھی سسکاری نے آنچ بھری تو پگھل گئے
مَیں چھلک گیا تو لفظ بھی سارے چھلک گئے
پھر ایک روز
مَیں ہنس نہ سکا تو مصرع ہُوا
ہنس مُکھ لفظوں کی بزم ہُوئی
اور ایک روز
جب رو نہ سکا، یا ضبط کیا
تو نظم ہُوئی

وحید احمد

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی