بے کار ہی جائے گا سفر، میں تو نہیں ہُوں

بے کار ہی جائے گا سفر، میں تو نہیں ہُوں
جِس سَمت وہ جاتا ہے اُدھر میں تو نہیں ہُوں

جب یار گُزرتے ہیں مری گَرد اُڑاتے
میں سوچنے لگتا ہُوں ڈگر میں تو نہیں ہُوں

افسوس یہ آواز بہت دیر سے پہنچی
تُم پاس بُلاتے ہو مگر میں تو نہیں ہُوں

اِک وہم نے پُوچھا کہ اُدھر کون چُھپا ہے
اِک خوف پُکارا کہ اِدھر میں تو نہیں ہُوں

ہر روز کئی لوگ کریں مُجھ میں بسیرا
میں کیسے بتاؤں کہ نگر میں تو نہیں ہُوں

حالات کی تصویر ہے بس دیکھتے رہیے
جو آپ کو آیا ہے نظر، میں تو نہیں ہُوں

شہزاد نیّر

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے