یہ زمانہ نہیں سمجھےگا کہانی اپنی

یہ زمانہ نہیں سمجھےگا کہانی اپنی
چوٹ دل کو کہاں لگتی ہے پرانی اپنی

آنکھ نم ناک ہے صحرا کی ہواوں میں بھی
رائگاں گزری محبت میں جوانی اپنی

منحرف ہے یہ محبت سے بڑا کافر ہے
کیوں مرے دل نے کبھی بات نہ مانی اپنی

خواب ٹوٹے ہوئے اب دل میں لیے پھرتا ہوں
رفتگاں چھوڑ گئے ہیں یہ نشانی اپنی

عشق کی آگ کہیں بیچ میں آجاتی ہے
پیاس کس طرح بجھائے کوئی پانی اپنی

خوش نہیں ہوں نئے خوابوں کے نگر میں لودھی
یاد آتی ہے بہت نقل مکانی اپنی

رفیق لودھی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی