یہ شہرت ہے کہ رسوائی مگر حد سے زیادہ ہے

یہ شہرت ہے کہ رسوائی مگر حد سے زیادہ ہے

میں خود اتنا نہیں سایہ مرے قد سے زیادہ ہے

مرے دل کی گرہ باتیں بنانے سے نہیں کھلتی

کہ مجھ میں بستگی کچھ قفل ابجد سے زیادہ ہے

کسی کے پاس حرف دل نشیں باقی نہیں ورنہ

قبول اب بھی دلوں کی خاک میں رد سے زیادہ ہے

سویدا کو مرے نسبت بہت ہے سنگ اسود سے

مگر نقش کف پائے محمد سے زیادہ ہے

یہ جان ناتواں میری یہ شوق بے اماں میرا

توانائی کف سیلاب میں سد سے زیادہ ہے

خورشید رضوی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے