یہ رنگ و نغمہ یہ خوشبو

یہ رنگ و نغمہ یہ خوشبو یہ لالہ زار حیات
جو ہم نہ ہوں تو کہاں جلوہ بہار حیات

معاملات وفا ہوں کہ کاروبار حیات
ہم اہل درد رہے کب نہ پاسدار حیات

حریم ناز بھی باب حرم بھی زنداں بھی
ہزار سنگ گراں ایک راہ گزار حیات

انہیں کو صحبت دار و رسن قبول ہوئی
جنہیں پسند رہی خواہش کنار حیات

نہ دل کی بات فسوں ہے نہ ذکر دہر فریب
کہ دھوپ چھاؤں سے ہے رونق دیار حیات

منزہ انور گوئیُندی

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا