آنسو ہیں اور دیدہ خونبار دوستو

آنسو ہیں اور دیدہ خونبار دوستو
دامن ہے اور اشک گہر بار دوستو

آنکھوں میں چبھ رہی ہے غم زندگی کی دھوپ
بیٹھے ہیں زیر سایہ ء دیوار دوستو

بکھری ہوئی ہیں دامن یوسف کی دھجیاں
اُجڑا ہوا ہے مصر کا بازار دوستو

اک دل ہے اور ماتم صد شہر آرزو
اک سر ہے اور لاکھ خریدار دوستو

بے نور ہو چکا ہے چراغ حریم ناز
ویراں ہے طاق ابروئے خم دار دوستو

دھندلا گئی ہے مشعل عرفان و آگہی
کجلا گیا ہے شعلہ افکار دوستو

شاید کہ زندگی کا سفر ختم ھو گیا
رکنے لگی ہے سانس کی تلوار دوستو

اب رائگاں ہے غمزہ ء محبوبہ بہار
اب ہم ہیں اور نرگس بیمار دوستو

منزہ انور گوئیُندی

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا