یہ دستور ہے دل کو یہ سمجھانا ھے

یہ دستور ہے دل کو یہ سمجھانا ھے
بابل کا گھر چھوڑ پیا گھر جانا ھے

بدلیں گے کچھ چہرے’ رشتے کچھ وعدے
بدلے گا اب جو بھی ساتھ پرانا ھے

بابا دیر سے آنے۔۔ تجھ سے نہ بولوں
اب نہ جھوٹا رونا اور دھمکانا ہے

دن سہانے تھے بابا کے آنگن میں
اس لاڈو کا اب سسرال ٹھکانہ ہے

بابا’ بھائی’ ماں سبھی رشتے ناطے
گھر پیا کے سب کا مان بڑھانا ہے

عمران ڈین

Related posts

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا