دیکھو تو کیا حسین ہے چہرہ استاد کا

دیکھو تو کیا حسین ہے چہرہ استاد کا
سہروں میں سر بلند ہے سہرا استاد کا

بے خوف ہوں نڈر ہوں اور میں ہوں بے خطر
گرچہ چوگرد ہے میرا پہرہ استاد کا

گو لاکھوں شعبہ جات ہیں دنیا جہاں میں
لیکن بلند سب سے ہے رتبہ استاد کا

آندھی طوفان ہوں یا چاھے زلزلے آفات
گرا نھیں سکتے کبھی جذبہ استاد کا

ھاتھوں میں لئے مشعل وہ چلتا ہے صبح و شام
دشوار بھر دشوار ہے رستہ استاد کا

عمران ڈین

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان