یہ بات الگ ہے کہ ہوئی پشت خمیدہ

یہ بات الگ ہے کہ ہوئی پشت خمیدہ
پر دل کو خبردار کہا عمر رسیدہ

ہے پیار ترے پاس تو پھر ٹھیک ہے ورنہ
تو پاس ہی رکھ اپنے یہ اوصافِ حمیدہ

کل ہم نے بھی احباب کی فہرست نکالی
دو چار قلمزد کیے دو چار کشیدہ

یہ فرق نہ سمجھیں گے رقیبانِ مکرم
ہم ہجر گُزیدہ ہوئے وہ وصل گَزیدہ

یہ لمحہِ آغاز پہ پھر پہنچ گئے ہیں
ترتیب سے ہوتے ہوئے اعصاب تنیدہ

پھر دشت پہ اور قیس پہ ہم بات کریں گے
اک ہجر گزار آؤ ذرا خون چکیدہ

"تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے”
گلدان کی زینت بنیں گل ہائے بریدہ

یاں حسنِ تجلی ہے وہاں میری غزل ہے
یان چشم دریدہ ہے وہاں دہن دریدہ

ایسی ہے مہارت ہمیں مصرعے کی بنت میں
وہ شکل دکھاتے ہیں جو ہوتی ہے شنیدہ

اظہر عباس خان

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے