دیارِ عشق سے آئی ندائے کن فیکون

دیارِ عشق سے آئی ندائے کن فیکون
سو خود کو پیش کیا ہے برائے کن فیکون

خیالِ یار ہے اور شعر ہو نہیں رہے ہیں
بہت شدید گھٹن ہے ہوائے کن فیکون

دلیل و عقل سے کہہ دو کہ باز آ جائیں
جہان کچھ بھی نہیں ہے سوائے کن فیکون

ادھر میں سوچوں ادھر سامنے تو آ جائے
میں ڈھونڈتا ہوں اک ایسی فضائے کن فیکون

طلب جو دیکھی مری نت نئے جہانوں کی
دکھائی اس نے مسلسل ادائے کن فیکون

مجھے بتا مرے عادل کہ میں تو تھا ہی نہیں
تو پھر میں کس لیے بھگتوں سزائے کن فیکون

خدا کے ساتھ مرا بھی ظہور تھا اظہر
وہ کیا کمال کا لمحہ تھا۔۔ ہائے!!!! کن فیکون

اظہر عباس خان

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی