یاد

یاد

یاد ایک بے رنگ بے مہک

مرجھایا ہوا گلاب

جس کے کانٹوں کی چبھن

باقی رہتی ہے صدا

یاد ماضی کی بنائی ہوئی

ایک دھندلی تصویر

میل نہیں کھاتا جس سے حال کا چہرہ

پھر بھی لگی ہے دل کی دیوار پر

یاد ٹوٹا پھوٹا ایک ایسا کھلونا

جس سے انسان دل بہلانا چاہے

بے کار ہونے کے باوجود

اسے پھینکنا نہیں چاہے

یاد ایک سراب

زیست کے ریگستان میں

جو اور بھی بڑھا دے

تھکے ہارے مسافر کی پیاس

ایلزبتھ کورین مونا

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے