یاد تیری یاد ہے نام خدا

یاد تیری یاد ہے نام خدا

ورنہ ہم کیا اور ہماری یاد کیا

صدر آرا تو جہاں ہو صدر ہے

آگرہ کیا اور الہ آباد کیا

مبدائے فیاض کے شاگرد کو

حاجت آموزش استاد کیا

اک کسوٹی ہے ترے کردار کی

مرتبہ کیا مال کیا اولاد کیا

اسماعیلؔ میرٹھی

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی