وہ ترک مست کسو کی خبر نہیں رکھتا

وہ ترک مست کسو کی خبر نہیں رکھتا
کہ میں شکار زبوں ہوں جگر نہیں رکھتا

بلا سے آنکھ جو پڑتی ہے اس کی دس جاگہ
ہمارا حال تو مدنظر نہیں رکھتا

رہے نہ کیونکے یہ دل باختہ سدا تنہا
کہ کوئی آوے کہاں میں تو گھر نہیں رکھتا

جنھوں کے دم میں ہے تاثیر اور وے ہیں لوگ
ہمارا نالۂ جانکاہ اثر نہیں رکھتا

کہیں ہیں اب کے بہت رنگ اڑ چلا گل کا
ہزار حیف کہ میں بال و پر نہیں رکھتا

تو کوئی زور ہی نسخہ ہے اے مفرح دل
کہ طبع عشق میں ہرگز ضرر نہیں رکھتا

خدا کی اور سے ہے سب یہ اعتبار ارنہ
جو خوب دیکھو تو میں کچھ ہنر نہیں رکھتا

غلط ہے دعوی عشق اس فضول کا بے ریب
جو کوئی خشک لب اور چشم تر نہیں رکھتا

جدا جدا پھرے ہے میر سب سے کس خاطر
خیال ملنے کا اس کے اگر نہیں رکھتا

میر تقی میر

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل