وسوسہ دل میں پل رہا تھا نا

وسوسہ دل میں پل رہا تھا نا
چھوڑ سکتے ہو تم کہا تھا نا

تیرے آنے سے مور ناچے ہیں
آج جنگل میں چہچہا تھا نا

قتل ہونا تھا ہو گیا آخر
خون بہنا تھا تو بہا تھا نا

کہاں آسان رہ تھی الفت کی
درد سہنا پڑا سہا تھا نا

میں تری ابتدا کی بات کروں
بس یہی تیرا منتہا تھا نا

محمد رضا نقشبندی

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا