کوئی غم رہا نہیں

کوئی غم رہا نہیں
یعنی دم رہا نہیں

دل میں وہ بسا رہا
اس سے کم رہا نہیں

آنکھ ڈھونڈتی رہی
جامِ جم رہا نہیں

بند دھڑکنیں ہوئیں
زیر و بم رہا نہیں

آنکھ ویراں ہوگئی
کچھ بھی نم رہا نہیں

محمد رضا نقشبندی

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی