وقت سے پہلے ہوئی شام

وقت سے پہلے ہو ئی شام گلہ کس سے کروں
رہ گئے کتنے مرے کام،گلہ کس سے کروں

اپنی ناکام تمنا کا سبب میں تو نہ تھی
آگیا مجھ پہ ہی الزام، گلہ کس سے کروں

دل ہراساں ہے بہت دیکھ کے انجامِ وفا
اے مری حسرتِ ناکام، گلہ کس سے کروں

اب تو وہ مجھ سے ملاتا ہی نہیں اپنی نظر
اب چھلکتے ہی نہیں جام، گلہ کس سے کروں

میرے قدموں نے مرا ساتھ کہاں چھوڑ دیا
منزلِ شوق تھی دوگام، گلہ کس سے کروں

ہجر کا روگ بھی رسوائی بھی پائی رومی
پوچھ مت عشق کا انجام، گلہ کس سے کروں

رومانہ رومی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی