اُڑنے کو ہوں میں تیار مگر

اُڑنے کو ہوں میں تیار مگر
صیاد فضا کی قیدی ہوں

مر جاتی زمانے کے ہاتھوں
پر ماں کی دُعا کی قیدی ہوں

جو فون پہ اکثر سنتی ہوں
اُس ایک صدا کی قیدی ہوں

جُھک جاؤں تو تاج و تخت ملے
لیکن میں انا کی قیدی ہوں

تم جوروستم کے رستے پر!
میں طرزِ وفا کی قیدی ہوں

اِک حبس مجھے ہے گھیرے ہوئے
میں رومی ہوا کی قیدی ہوں

رومانہ رومی

Related posts

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

تقوی کی اعلی مثال