وجود کرب سے آگے

میں جوہر پر مقدم ہوں

مرے پاؤں کی بیڑی یہ زمانہ بن نہیں سکتا

نہ ہی محدود ہوں اور ناگہانی بھی نہیں ہوں میں

مقدر تھا مرا ماضی

مگر میں حال، مستقبل کا سودا سر میں رکھتی ہوں

میں ہی تو مرکزی کردار ہوں اپنی کہانی کا

اساسی کچھ نہیں ہے

منطقی نا جوہری کچھ ہے

میں خود میں ڈوب کر تشکیل نو کرتی ہوں خود اپنی

میں خود تخلیق کرتی ہوں

مکاں کے معنی و مفہوم

سچائی مجھ سے پھوٹی ہے

میں سچی ہوں مگر دنیا یہ جھوٹی ہے

نیل احمد

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے